:
Breaking News

India News: سپریم کورٹ کی ادویات کی قیمتوں پر سخت سوالات، 27 ہزار کی دوا 2700 روپے میں دستیاب ہونے پر تشویش

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | بھارت کی سپریم کورٹ نے ادویات کی اصل قیمت اور زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) کے درمیان بڑے فرق پر سوال اٹھائے۔ جانیے ادویات کی قیمتوں کے ضابطے اور کینسر کی دواؤں پر حکومت کے فیصلے کی تفصیلات۔

27 اکتوبر 2026، نئی دہلی: بھارت میں ادویات کی قیمتوں اور مریضوں پر علاج کے بڑھتے اخراجات کے معاملے پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے نظامِ قیمت گذاری پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض ادویات کی دکاندار کو فروخت کی جانے والی قیمت اور پیکٹ پر درج زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اس قدر فرق کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے اور متعلقہ ادارے اس پر مؤثر کارروائی کیوں نہیں کرتے۔


2700 روپے کی دوا پر 27 ہزار روپے کی MRP کیوں؟


سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے ایک کینسر کی دوا کی مثال پیش کی، جس کی خوردہ فروش کو قیمت تقریباً 2700 روپے بتائی گئی، جبکہ اس پر زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت 27 ہزار روپے درج تھی۔ عدالت نے اس بڑے فرق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو اس طرح کے اخراجات کا سامنا کیوں کرنا پڑے۔


عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ تمام ادویات اور طبی آلات کے لیے قیمتوں کے فرق کو محدود کرنے کا یکساں اصول کیوں نہیں بنایا جا سکتا۔ سماعت کے دوران 16 فیصد مارجن کی حد کا سوال بھی اٹھایا گیا، تاہم یہ عدالت کی جانب سے زیرِ غور تجویز تھی، تمام ادویات پر نافذ کیا گیا حتمی حکم نہیں۔


NPPA کے کردار پر بھی سوال


نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (NPPA) ملک میں ادویات کی قیمتوں کی نگرانی اور متعلقہ ضابطوں پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ جب ادویات کی قیمتوں میں اتنا بڑا فرق سامنے آ رہا ہے تو اس کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔


موجودہ نظام کے تحت ضروری ادویات کی فہرست میں شامل کئی دواؤں کی قیمتوں کی زیادہ سے زیادہ حد حکومت مقرر کرتی ہے۔ دوسری جانب فہرست سے باہر بعض ادویات کی ابتدائی قیمت طے کرنے میں کمپنیوں کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے، اگرچہ ان کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے بھی ضابطے موجود ہیں۔


کینسر کی دواؤں پر 30 فیصد مارجن کی حد


کینسر کی ادویات کی قیمتوں کے معاملے میں مرکزی حکومت نے تجارتی مارجن کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق غیر شیڈولڈ کینسر ادویات پر تجارتی مارجن MRP کے 30 فیصد تک محدود کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام سے مریضوں کو سالانہ تقریباً 2500 کروڑ روپے کی بچت ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔


حکومت نے اس کے لیے متعلقہ ادویات کی فہرست تیار کرنے اور قیمتوں میں کمی کے ساتھ ان کی دستیابی برقرار رکھنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم یہ ضابطہ تمام ادویات پر خود بخود لاگو نہیں ہوتا، بلکہ اس کا دائرہ متعلقہ فہرست اور سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہوگا۔


علاج کے اخراجات میں ادویات کا بڑا حصہ


علاج کے مجموعی خرچ میں ادویات کی قیمتیں اہم حصہ رکھتی ہیں۔ خصوصاً کینسر جیسی سنگین بیماریوں میں مہنگی دوائیں مریضوں اور ان کے خاندانوں پر مالی دباؤ بڑھا دیتی ہیں۔ اسی لیے ادویات کی قیمتوں میں شفافیت اور مناسب نگرانی کا معاملہ عوامی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔


سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ غور معاملے میں ادویات کی قیمتوں کے ضابطوں، عام اور ضروری ادویات کے درمیان فرق اور مریضوں کو مناسب قیمت پر علاج فراہم کرنے جیسے سوالات شامل ہیں۔


ادویات کی قیمتیں کیسے طے ہوتی ہیں؟


بھارت میں ڈرگس پرائس کنٹرول آرڈر (DPCO)، 2013 کے تحت حکومت ضروری ادویات کی قومی فہرست (NLEM) میں شامل دواؤں کی قیمتوں کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر سکتی ہے۔ NPPA ان قیمتوں کی نگرانی اور متعلقہ ضابطوں پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہے۔


فہرست میں شامل ادویات کے لیے مقررہ قیمت سے زیادہ وصول کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ فہرست سے باہر ادویات کی قیمتوں پر بھی نگرانی کا نظام موجود ہے، لیکن ان کی قیمتوں کا تعین ضروری ادویات جیسا نہیں ہوتا۔


ادویات کی قیمتوں میں بڑے فرق کے معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ مریضوں کو مناسب قیمت پر دوائیں فراہم کرنے کے لیے موجودہ نظام میں مزید کیا تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ عدالت کی کارروائی اور حکومت کے اقدامات سے متعلق حتمی صورتِ حال سرکاری احکامات اور عدالتی فیصلوں کے مطابق واضح ہوگی۔


یہ بھی پڑھیں: [Alam Ki Khabar کی دوسری خبر یہاں شامل کریں]

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *